Home | Contact Us | Site Map | Donate Us 
Estd: 1912 Waqf Regd. I1954 No.936 8 June 1931
 
Group Photograph of the Children ofShia Yateem Khaana Alias Gulistaan-e-AbutAlib
 
دنیا میں بہت سے لوگ کچھ کر گذرتے ہیں اور کچھ لوگ بہت کچھ کر گذرتے ہیں ۔انہیں بہت کچھ کر گذرنے والوں میں سے معمار قوم، محیی الملۃ، آیۃ اللہ العظمیٰ السید کلب صادق النقوی اکمل ؔ جائسی المعروف بہ قدوۃ العلماء مولانا السید آقا حسن صاحب قبلہ مجتہد کی ذات والا صفات تھی۔ جنہوں نے فرائض منصبی و ترقی ملت کو ملحوظ رکھتے ہوئے عرفان خودی کے تحت بہت کچھ کیا۔
فخر قوم خان بہادر مولوی سید کلب عباس نقوی جائسی (سکریٹری آل انڈیا شیعہ کانفرنس) ہفتہ وار ’پیام نو‘ لکھنؤ کے عمدۃ العلمائؒ نمبر میں صفحہ ۹پر تحریر فرماتے ہیں کہ ’’جناب قدوۃالعلماء مولانا آقا حسن صاحب قبلہ طاب ثراہ کو بجا طور پر محیی ملت کہا جاسکتا ہے ۔ غفرانمآب اعلیٰ اللہ مقامہ محیی مذہب جعفریہ تھے اور جناب قدوۃ العلماء محیی ملت جعفریہ تھے ۔ دونوں گوشہ نشین ، مگر اپنے انوار تبلیغ و ارشاد سے مطلع انوار ہدایت ہوئے۔ دونوں کی سادہ زندگی اور فرشتہ خصلتی دنیا کے لیئے نمونۂ عمل بن گئی۔ دونوں میں اخلاقی جرأت اور بے ہراس تبلیغ حق کی قوت عملی اس پایہ کی تھی کہ اس کے لیئے انہوں نے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ جناب غفرانمآب ؒنے جب مذہب کو خطرہ میں پایا تو بے خطر اپنے تئیں تبلیغ حق کے لیئے نذر کر دیا۔ اور سیکڑوں کتابیں جو عماد اسلام ہی نہیں عمود اسلام ہیں تصنیف فرما کر کفر و الحاد و ارتداد کے سیلاب کو روکا ۔ حضرت قدوۃ العلماء نے باوجود غفرانمآبؒ سا سازگار اور مساعد وقت نہ پانے کے بلکہ اس کے برعکس مخالف ماحول پانے کے احیائے ملت جعفریہ کا بیڑا اٹھایا ۔ ان کا زمانہ شاہان اودھ کا زمانہ تھا اور قدوۃ العلماء کا زمانہ برٹش نظام کے مطابق جمہوری دستور کا دور دورہ تھا ۔ ہرچیز مشاورتی عنوان سے طے اور جمہوری نظام کے مطابق چلتی تھی۔ اسلام ’’شاور ہم فی الامر‘‘ کا حکم تو دیتا تھا مگر ایسے مشورے کو تابع حکم شریعت کرتا تھا ۔ جناب قدوۃ العلماء نے اسی معیار پر آل انڈیا شیعہ کانفرنس کی بنیاد ڈالی اور اس کا اساسی اصول یہ رکھا کہ اس کانفرنس کی کوئی تجویز یا اس کا کوئی عمل خلاف شریعت اور منافی احکام شرعیہ نہ ہوگا۔ ۱۹۰۷ء ؁میں یہ اساسی اصول ڈالا گیا اور اب تک یعنی ۱۹۶۳ء؁ تک نہیں بدلا۔ ‘‘
سلسلۂ نسب پدری :۔
قدوۃ العلماء مولانا سید آقا حسن
صاحب مجتہد بن مولانا سید کلب عابد بن مولانا سید کلب حسین جائسی بن رئیس العلماء مولانا السید ولی محمد حسین صاحب قبلہ جائسی مجتہد بن مولوی سید علی سجاد بن ملا سید فصیح اللہ بن ملاسید یوسف علی (استاذ بہادر شاہ ظفرؔ) بن ملا سید عصمت اللہ (صدر الصدور دہلی) بن ملا سید لطف اللہ بن مولوی سید بدیع الزماں بن میر فتح اللہ بن سید ارشد بن سید سلیمان بن سید زکر یا جائسی (فاتح دوم نصیر آباد) بن سید خضر بن سید تاج الدین بن قاضی سید نصیر الدین جائسی (فاتح اول پٹاکپور یعنی نصیر آباد) بن سید علیم الدین بن سید علم الدین بن اشرف الملک نواب سید شرف الدین متوفی ۴۲۵ھ؁ (والیٔ علاقۂ جائس ) بن اشجع العصر فقیہ الاسلام علامہ ملا نواب نجم الملک سید نجم الدین سبزواری فاتح جائس متوفی ۱۰۲۷ء؁(المدفون بارض بنارس )ابن سید علی بن سید ابوعلی بن سید ابوالعلیٰ بن سید محمد بن سید ابوطالب حمزہ ، بن سید محمد طاہر ثانی بن شاہزادہ سید طاہر عراقی بن سید ابوعبداللہ جعفر ثانی بن امام دہم حضرت علی نقی علیہ الصلوٰۃ والسلام
سلسلۂ نسب مادری :۔
قدوۃ العلماء سبط عمدۃ العلماء صدر الشریعۃ آیۃاللہ فی الانام سید محمد ہادی مجتہد بن شریعتمدار آقا السید مہدی مجتہد بن محیی الملت والدین مجدّد اکبر برّصغیر مجتہد اعظم ہند مولانا السید دلدار علی نقوی نصیر آبادی غفرانمآب رحمہ اللہ ۔
ولادت :۔
جناب قدوۃ العلماء (تاریخی نام افتخار ۱۲۸۲ھ ؁ ) ۶!ربیع الاول ۱۲۸۲ھ؁ مطابق۱۸۶۵؁ء کو بمقام لکھنؤ پیدا ہوئے ۔
اسلاف قدوۃ العلماء :۔
سید الادباء مولانا سید محمد باقر شمسؔ (صاحب تاریخ لکھنؤ) تحریر فرماتے ہیں کہ’’ بنی ہاشم خصوصاً خاندان رسالت ہمیشہ علم اور شجاعت دو جوہروں کا مالک تھا اور یہ دونوں جوہر آج تک قدرتی وراثت کے طور پر ہمیشہ منتقل ہوتے رہے۔ بیشک ان کے ظہور کے موقعے مختلف تھے جب تقیہ کی گھٹائیں چھائیں ، زبان اور قلم پر پہرے بیٹھے تو علم سینوں کے اندر چراغ زیر داماں کی صورت مخفی رہا او رسپاہیانہ زندگی کے پردے میں شجاعت نے اپنے جوہر دکھلائے۔ لیکن جب امن و امان کا آفتاب نکلا اور تقیہ کا پردہ ہٹا تو وہ علمی جوہر جو تغافل زمانہ کے ہاتھوں قوت و استعداد کے پردے میں پنہاں تھا۔ فعلیت کے معرض میں آیا اور پھر وہ جلوہ گری دکھلائی کہ عالم بھر کی نظریں خیرہ ہو گئیں۔
نقوی سادات کے اس مقتدر خاندان کی تاریخ دو دوروں میں منقسم ہے۔ خلافت عباسیہ کا وسطی زمانہ اور غیبت صغریٰ کے بعد غیبت کبریٰ کا ابتدائی عہد ، سادات کی مخالفت میں ظلم و ستم کے سمندر کی کوہ پیکر لہریں ، جبر و استبداد کی گھٹائیں امڈی ہوئی آپس میں، سادات کا بیڑہ اور وہ بھی بے ناخدا ، اس عالم میں مظلوم سادات کے لیئے علمی مظاہروں کا کیا امکان تھا؟‘‘
امام علی نقی علیہ السلام کے بعد انکی اولاد پر سامرہ
صاحب مجتہد بن مولانا سید کلب عابد بن مولانا سید کلب حسین جائسی بن رئیس العلماء مولانا السید ولی محمد حسین صاحب قبلہ جائسی مجتہد بن مولوی سید علی سجاد بن ملا سید فصیح اللہ بن ملاسید یوسف علی (استاذ بہادر شاہ ظفرؔ) بن ملا سید عصمت اللہ (صدر الصدور دہلی) بن ملا سید لطف اللہ بن مولوی سید بدیع الزماں بن میر فتح اللہ بن سید ارشد بن سید سلیمان بن سید زکر یا جائسی (فاتح دوم نصیر آباد) بن سید خضر بن سید تاج الدین بن قاضی سید نصیر الدین جائسی (فاتح اول پٹاکپور یعنی نصیر آباد) بن سید علیم الدین بن سید علم الدین بن اشرف الملک نواب سید شرف الدین متوفی ۴۲۵ھ؁ (والیٔ علاقۂ جائس ) بن اشجع العصر فقیہ الاسلام علامہ ملا نواب نجم الملک سید نجم الدین سبزواری فاتح جائس متوفی ۱۰۲۷ء؁(المدفون بارض بنارس )ابن سید علی بن سید ابوعلی بن سید ابوالعلیٰ بن سید محمد بن سید ابوطالب حمزہ ، بن سید محمد طاہر ثانی بن شاہزادہ سید طاہر عراقی بن سید ابوعبداللہ جعفر ثانی بن امام دہم حضرت علی نقی علیہ الصلوٰۃ والسلام
سلسلۂ نسب مادری :۔
قدوۃ العلماء سبط عمدۃ العلماء صدر الشریعۃ آیۃاللہ فی الانام سید محمد ہادی مجتہد بن شریعتمدار آقا السید مہدی مجتہد بن محیی الملت والدین مجدّد اکبر برّصغیر مجتہد اعظم ہند مولانا السید دلدار علی نقوی نصیر آبادی غفرانمآب رحمہ اللہ ۔
ولادت :۔
جناب قدوۃ العلماء (تاریخی نام افتخار ۱۲۸۲ھ ؁ ) ۶!ربیع الاول ۱۲۸۲ھ؁ مطابق۱۸۶۵؁ء کو بمقام لکھنؤ پیدا ہوئے ۔
امام علی نقی علیہ السلام کے بعد انکی اولاد پر سامرہ
 
 
 
Designed and Maintained by Crystal Webtech